بنگلورو،13؍اپریل(ایس او نیوز) جموں وکشمیر کے کھٹوا اور اترپردیش کے اناؤ میں نابالغ لڑکیوں کی عصمت دری اور کھٹوا میں آٹھ سالہ بچی عاصفہ کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعے کے خلاف آج شہر میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ میسور بینک سرکل پر اے آئی ڈی ایس او ، اے ڈی وائی او اور دیگر طلبا تنظیموں سے وابستہ ہزاروں کارکنوں نے جمع ہوکر اس ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور خاطیوں کو سزائے موت دینے کی مانگ کی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے بیٹی بچاؤ کے نعرے کو فرضی قرار دیتے ہوئے احتجاج میں شامل طلبا یونین لیڈروں نے کہاکہ آج بی جے پی سے بیٹی بچاؤ تحریک کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ ان لیڈروں نے کہاکہ دراصل وزیراعظم نے بیٹی بچاؤ کا نعرہ نہیں دیا بلکہ اقتدار سنبھالتے وقت عوام کو وارننگ دی تھی کہ اپنی بیٹیوں کو بچاؤ۔کھٹوا میں آٹھ سالہ عاصفہ کی ایک مندر میں اجتماعی عصمت ریزی اور اس کے بعد پتھروں سے اس کا سر کچل دئے جانے کے واقعے کو درندگی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے ان لوگوں نے کہاکہ ان وحشی درندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی کی بجائے ہندو یکتا منچ نامی تنظیم نے اس ذلیل حرکت کو کارنامہ قرار دیتے ہوئے ملزمین کا دفاع کیا اور مقتولہ کی طرف سے پیروی کرنے والی وکیل کو ڈرایا دھمکیا جارہاہے۔ جموں بار اسوسی ایشن کے وکیل جو ان ملزمین کی دفاع میں کھڑے ہوگئے ہیں وہ انصاف کی دہائی دینے والی وکیل کو عدالت میں گھسنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں تو دوسری طرف اتر پردیش کے اناؤ میں ایک بی جے پی رکن اسمبلی نے نابالغ لڑکی کے ساتھ نہ صرف منہ کالا کیا بلکہ حراست میں اس کے باپ کا قتل کردیا۔ مظلومین کے لئے انصاف مانگنے کے مقصد سے جب احتجاجی مظاہرے کئے گئے تو اترپردیش پولیس نے احتجاجیوں کو بے رحمی سے مارا ، جبکہ ملزمین کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں ، ملک کی اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ان طلبا لیڈروں نے کہاکہ اس نظام کو جلد از جلد بدلنے کی ضرورت ہے۔